الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. خُرُوجُ عُنُقِ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَوْلُ جَهَنَّمَ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
حدیث نمبر: 13214
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يَبْصُرُ بِهِمَا وَآذَانٌ يَسْمَعُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ فَيَقُولُ إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَبِكُلِّ مَنِ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَالْمُصَوِّرِينَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی، اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جن سے وہ دیکھتی ہوگی، اس کے کان ہوں گے جن سے وہ سنتی ہو گی اور اس کی ایک زبان بھی ہوگی، جس سے وہ بولتی ہو گی، وہ کہے گی: مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے: ایک وہ جو ظالم اور سرکش ہو، دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کے معبود ہونے کا دعویٰ کرے اور تیسرا تصاویر بنانے والا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13214]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 2574، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8411»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں لفظ عُنُقٌ آیا ہے، اس کا معنی اگرچہ لپٹ بھی ہے لیکن معروف معنی گردن ہے۔ پھر اس کے ساتھ آنکھوں، کانوں اور زبان کا ذکر بھی ہے، جو گردن کے معنی کی تائید کرتا ہے۔ باقی اس گردن کی کیفیت اور جسمانی ساخت کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13214 in Urdu