الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. التَّحْذِيرُ مِنَ النَّارِ
جہنم سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 13217
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اتَّقُوا النَّارَ“ قَالَ شَاحَ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ”اتَّقُوا النَّارَ“ وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ قَالَ قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ”اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشَقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ“
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار کیا، ہمیں یوں محسوس ہوا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچنے کے اسباب پیدا کرو۔ ساتھ ہی آپ نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار فرمایا، دو تین مرتبہ ایسے ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو اور اگر کسی کو وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے ہی سہی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13217]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6023، ومسلم: 1016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19606»
وضاحت: فوائد: … یعنی مسلمان کو چاہیے کہ وہ حسب ِ استطاعت صدقہ کرتا رہے اور اگر کسی میں اتنی طاقت بھی نہ ہو تو لوگوں سے اچھے انداز میں پیش تو آیا کرے، جو کہ سب سے آسان عمل ہے۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ لوگوں کے مزاج بگڑ گئے ہیں اور انھوں نے اپنے اچھے موڈ کے لیے چند بندوں کو خاص کر لیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6023
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13217 in Urdu