🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. صِفَة أَشْجَارِهَا وَطُبُورِهَا وَأَنْهَارِهَا
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13282
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”فِي الْجَنَّةِ بَحْرُ اللَّبَنِ وَبَحْرُ الْمَاءِ وَبَحْرُ الْعَسَلِ وَبَحْرُ الْخَمْرِ ثُمَّ تَشَقَّقُ الْأَنْهَارُ مِنْهَا بَعْدَهُ“
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں دودھ کا سمندر ہو گا، پانی کا سمندر ہو گا، شہد کا سمندر ہو گا اور شراب کا سمندر ہو گا، پھر ان سے نہریں نکل رہی ہوں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13282]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2571، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20311»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِیْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّاء ٍ غَیْرِ اٰسِنٍ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہُ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی وَلَہُمْ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ کَمَنْ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَائً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَائَ ہُمْ} … اس جنت کا حال جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جوبگڑنے والا نہیں اور کئی نہریں دودھ کی ہیں، جس کا ذائقہ نہیں بدلا اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے اور کئی نہریں خوب صاف کیے ہوئے شہد کی ہیں اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل اور ان کے رب کی طرف سے بڑی بخشش ہے۔ (کیا یہ متقی لوگ) ان جیسے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ (سورۂ محمد: ۱۵)
اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جنت کے درخت ہوں گے تو درخت ہی، مگر ان کی کیفیت، خوبصورتی اور طول و بلندی انسان کے وہم و گمان میںنہیں آسکتی، ایک درخت کا سایہ اس قدر طویل ہوگا کہ تیز رفتار سوار ایک سو سال میں بھی اس کے سایہ کو طے نہیں کر سکے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 13282 in Urdu