🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. عَدَدُ مَنْ يُدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَصِفَتُهُمْ
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13306
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أُعْطِيتُ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَقُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَاسْتَزَدْتُّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِينَ أَلْفًا“ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ أَتَى عَلَى أَهْلِ الْقُرَى وَمُصِيبٍ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِي
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:: میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے‘ ان کے چہرے بدر والی رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ایک انسان کے دل کی مانند ہوں گے۔ جب میں نے اپنے ربّ سے مزید مطالبہ کیا تو اس نے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار افراد کا اضافہ کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ چیز تو بستیوں والوں پر آئے گی اور دیہاتوں کے کناروں تک پہنچ جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13306]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابويعلي: 112، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22»
وضاحت: فوائد: … بغیر حساب وکتاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی تفصیلی تعداد درج ذیل ہے، تمام احادیث کو اس بحث کی روشنی میں سمجھیں:
مذکورہ بالا حدیث کے مطابق چار ارب، نوے کروڑ اور ستر ہزار (۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد حساب وکتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ (سبحان اللہ)یہ کون لوگ ہیں؟ ان کی صفات کیا ہیں؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر سابقہ امتیں پیش کی گئیں، … …۔ پس میں نے ایک بہت بڑا لشکر دیکھا، جبریل نے مجھے کہا: یہ آپ کی امت ہے اور ان کے سامنے جو ستر ہزار افراد ہیں، ان کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔ میں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ برا شگون لیتے ہیں اور صرف اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ (بخاری: ۶۵۴۱، مسلم: ۲۲۰)
ہماری شریعت میں دم کروانا،زخم پر داغ لگانا اور علاج کروانا جائز ہے، لیکن توکل کی اعلی قسم یہ ہے کہ ان سے بھی گریز کرتے ہوئے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔ یعنی جس نے بیماری لگائی، وہی دور کرے گا۔
(۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد کے علاوہ اللہ کریم کی تین مٹھیاں بھی ہوں گی، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے پتہ چل رہا ہے، معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں کتنے لوگ سما جائیں گے۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ۔

الحكم على الحديث:
صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 13306 in Urdu