الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. أَهْلُ الْجَنَّةِ وَصِفَاتُهُمْ وَمِقْدَارُهُمْ بِالنِّسْبَةِ لِلْأُمَمِ الأخرى وأكلُهُمْ وَشُرْبُهُمْ وَنِكَاحُهُمْ وَلِبَاسُهُمْ
اہل جنت،ان کی صفات،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے، نکاح اور لباس کا تذکرہ
حدیث نمبر: 13325
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ثِيَابَ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَتُنْسَجُ نَسْجًا أَمْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَأَنَّ الْقَوْمَ تَعَجَّبُوا مِنْ مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ ”مَا تَعَجَّبُونَ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا“ قَالَ فَسَكَتَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قَالَ أَنَا قَالَ ”لَا بَلْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں فرمائیے کہ وہ بُنا جائے گا یا وہ جنت کے پھلوں سے ہی بنا لیا جائے گا؟ اس بدّو کے سوال سے یوں محسوس ہوا کہ لوگوں کو حیرت ہوئی ہے؟ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات سے تعجب ہو رہا ہے کہ ایک بے علم،علم والے سے ایک سوال کر رہا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے، جو اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں دریافت کر رہا تھا؟ وہ بولا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ـ اس لباس کو بُنا نہیں جائے گا، بلکہ وہ جنت کے پھلوں سے نکلے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13325]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة شيخ العلاء بن رافع، وھو حنان بن خارجة، أخرجه البزار والطبراني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6890»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة شيخ العلاء بن رافع
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13325 in Urdu