الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ صِيَانَةِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الرَّوَائِحِ الْكَرِيهَةِ
مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
حدیث نمبر: 1355
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ نَعُدْ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ وَقَعْنَا فِي تِلْكَ الْبَقَلَةِ فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا وَنَاسٌ جِيَاعٌ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ، فَقَالَ: ( (مَنْ أَكَلَ مِنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ) ) فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ! فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ وَلَكِنْهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا) )
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ سبزی (کھیت) میں گھس گئے، لوگوں کو بھوک لگی ہوئی تھی، اس لیے ہم نے اسے خوب کھایا، پھر ہم مسجد میں چلے گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بو محسوس کی تو فرمایا: جو شخص اس خبیث (مکروہ) درخت سے کچھ کھا لے تو وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ لوگ کہنے لگے: یہ حرام ہو گیایہ حرام ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر موصول ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کوحرام کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، دراصل یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی بو مجھے ناپسند لگتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1355]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11084، 11583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11604»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 565
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1355 in Urdu