🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ جَامِعِ فِيمَا تُصَانُ عِنْدَ الْمَسَاجِدِ
تمام ان چیزوں کا بیان جس سے مساجد کو محفوظ رکھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ خَالِهِ مُسَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ لِمَ دَعَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ لِي: ( (إِنِّي كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَي الْكَبْشِ حِينَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا فَخَمِّرْهُمَا، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يُشْغِلُ الْمُصَلَّى) ) قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا
ایک دوسری سند سے مروی ہے: صفیہ بنت شیبہ کہتی ہے:بنو سلیم کی ایک عورت، جو ہمارے گھر والوں میں سے اکثر کی والدہ ہے، نے مجھے بتایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو پیغام بھیجا۔ ایک مرتبہ راوی نے یہ کہا کہ اس عورت نے عثمان بن طلحہ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے کیوں بلایا تھا؟ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب میں بیت اللہ میں داخل ہوا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ دیکھے تھے، پھر میں بھول گیا کہ تجھے ان کو ڈھانپ دینے کا حکم دوں، اس لیے ا ب انہیں ڈھانپ دے، کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نمازی کو مشغول کرے۔ سفیان فرماتے ہیں: مینڈھے کے دونوں سینگ بیت اللہ میں ہی رہے، جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1364]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأوّل: 344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23609»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیبہ کو بلایا جبکہ کتب ِ ستہ اور دوسری کتب ِ احادیث اور خود مسند احمد کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کا دروازہ کھولنے کے لیے عثمان بن طلحہ کو بلایا اور یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔ اسماعیل علیہ السلام کے فدیے میں جو مینڈھا لایا گیا تھا، اس کے سینگ کعبہ کی عمارت کے اندر رکھے ہوئے تھے۔ جب یزید بن معاویہ کے دور میں واقعہ حرہ کے بعد بنو امیہ کا لشکر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبد اللہ بن زبیر کا محاصرہ کیا اور منجنیق نصب کر کے کعبہ پر پتھر برسائے اور آگ لگ جانے کی وجہ سے بیت اللہ کے پردے، چھت اور یہ دو سینگ جل گئے، یہ صفر ۶۴ ھ کا واقعہ ہے۔ (بلوغ المعانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۳۶۰)
کتنی قابل غور بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ جیسی مقدم عمارت کے اندر بھی نمازی کے خشوع و خضوع کی خاطرسینگوں پر کپڑا ڈالنے کو پسند کیا، مسجد کی زیب و زینت، بیل بوٹوں، انتہائی جاذب نظر منبروں اور محرابوں، رنگا رنگ کی الماریوں اور منقش پتھروں کا اہتمام کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأوّل: 344


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1364 in Urdu