الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الْبُيُوتِ
گھروں میں مساجد بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 1381
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محلوں میں مساجد بنانے کا،انہیں صاف ستھرا رکھنے کا اور ان میں خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1381]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه الترمذي: 594، وابوداود: 455، وابن ماجه: 759، وابن حبان: 1634، وابن خزيمة: 1294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26918»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث سے گھروں میں مساجد بنانے کا استدلال محل نظر ہے، اگرچہ دار کا معنی گھر بھی کیا گیا ہے، لیکن ان احادیث میں دار سے مراد محلہ یا قبیلہ ہے۔ شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: بغوی نے شرح السنۃ میں کہا: (دُوْر یا دِیَار سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وہ محلے ہیں، جن میں گھر ہوتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {سَأُرِیْکُمْ دَارَ الْفَاسِقِیْنَ} قبیلہ کے لوگ جس محلے میں جمع ہوتے تھے، عرب لوگ اسے دار کہتے تھے۔ امام سفیان نے کہا: دُور سے مراد قبائل ہیں،یعنی قبائل میں مسجدیں تعمیر کی جائیں، … … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی حکمت یہ ہے کہ ہر محلے میں اہل محلہ کے لیے ایک مسجد ہو، جس میں وہ آسانی سے نماز ادا کر سکیں، کیونکہ بسا اوقات دوسرے محلہ کی مسجد میں پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے، اور اس طرح سے لوگ مسجد اور جماعت کے اجر سے محروم ہو جاتے ہیں۔ (عون المعبود: ۱/ ۲۴۹)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه الترمذي: 594
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1381 in Urdu