الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْمَرْأَةَ الْحُرَّةَ كُلَّهَا عَوْرَةٌ إِلَّا وَجْهَهَا وَكَفَّيْهَا
آزاد عورت چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ ساری کی ساری چھپانے کی چیز ہے
حدیث نمبر: 1401
عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلْحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خِمَارٍ قَدْ حِضْنَ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَا تُصَلِّينَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي خِمَارٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ وَكَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى عَلَيَّ حَقْوَهُ فَقَالَ: ( (شُقِّيهِ بَيْنَ هَٰذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي فِي حِجْرِ أُمِّ سَلَمَةَ فَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ أَوْلَى أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا) )
محمد بن سیرین روایت کرتے ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صفیہ امِّ طلحۂ طلحات کے پاس آئیں اوراس کی کچھ لڑکیوں کو دیکھا، جو بالغ ہو چکی تھیں، لیکن بغیر اوڑھنیوں کے نماز پڑھ رہی تھیں۔ محمد کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ان میں سے کوئی لڑکی بغیر اوڑھنی کے نماز نہ پڑھے کیونکہ میری تربیت میں ایک لڑکی تھی اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو آپ نے میری طرف اپنی چادر ڈالی اور فرمایا: یہ چادر اس لڑکی اور ام سلمہ کی گود میں جو لڑکیاں ہیں ان کے درمیان تقسیم کر دے کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ بالغ ہو چکی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1401]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25153»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1401 in Urdu