الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَجْرِيدِ الْمَنْكِبَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَجَوَازِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
حدیث نمبر: 1408
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أَزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ أَمْثَالَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الإِزَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! لَا تَرْفَعْنَ رُؤُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ
سیّدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے مردوں کو نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں ازار تنگ ہونے کی وجہ سے بچوں کی طرح اپنے ازار اپنی گردنوں میں باندھے ہوئے دیکھا، کسی کہنے والا نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! اس وقت تک اپنے سر نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1408]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 362، 814، 1215، ومسلم: 441 وابوداود!: 630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15562)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15647»
وضاحت: فوائد: … مجبوری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ازار میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے اس حدیث کا معنییہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقتدیوں کا ستر ننگا ہو رہا تھا۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب لباس تنگ ہو تو نقل و حرکت کے وقت یا کسی اور وجہ سے بے پردگی ہو سکتی ہے، اس لیے عورتوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی گئی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 362
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1408 in Urdu