الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ وَالْبُسُطِ وَالْفِرَاءِ وَالْخُمْرَةِ
چٹائی، ٹاٹوں،پوستینوںاور اوڑھنیوں پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1438
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَنَعَ بَعْضُ عَمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي، قَالَ: فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ، فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا؛ اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، گھر میں کھجور کی بنی ہوئی چٹائیوں میں سے ایک چٹائی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک طرف کے بارے میں حکم فرمایا تو اسے صاف کر کے اس پر پانی چھڑکا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1438]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 519، 661، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11071)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12127»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 519
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1438 in Urdu