الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ مَنْ صَلَّى وَبَيْنَ يَدَيْهِ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
حدیث نمبر: 1498
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: حَدَّثَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ عِنْدَ عُمَرَ: فَلَعَلَّهَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ! قَالَتْ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عُرْوَةُ: أُخْبِرُكَ بِالْيَقِينِ وَتَرُدُّ عَلَيَّ بِالظَّنِّ، بَلْ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ
محمد بن جعفر بن زبیر کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے امیر مدینہ عمر بن عبد العزیز کو یہ حدیث بیان کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عائشہ کی طرف نماز پڑھتے تھے اور وہ آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔ ابو امامہ بن سہل کہنے لگے: ابوعبداللہ! شاید انھوں نے یہ کہا ہوکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوتی تھیں؟یہ سن کر عروہ نے کہا: میں تجھے یقین کے ساتھ خبر دے رہا ہوں اور تو مجھ سے گمان والی بات کر رہا ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) وہ جنازے کی طرح واقعی آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26889»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کے سامنے سے گزرنا اور چیز ہے اور اس کے سامنے بیٹھے رہنا یا سوئے رہنا اور چیز ہے۔ اسی طرح جن روایات کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سجدہ کرتے وقت اپنی ٹانگوں کو پیچھے کر لیتی تھیں، پھر آگے کر دیتی تھیں، ان سے بھی گزرنا ثابت نہیں ہوتا۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26889
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1498 in Urdu