الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب جامع صفة الصلاة
نماز کے جامع طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 1517
عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ يَوْمًا: أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَذَلِكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ، فَقَامَ فَأَمْكَنَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَمْكَنَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْتَصَبَ قَائِمًا هُنَيَّةً ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَيُكَبِّرُ فِي الْجُلُوسِ، ثُمَّ انْتَظَرَ هُنَيَّةً ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: فَصَلَّى صَلَاةً كَصَلَاةِ شَيْخِنَا هَٰذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ الْجَرْمِيَّ وَكَانَ يَوْمُعَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَيُّوبُ: فَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَالثَّالِثَةِ
سیّدنا مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے ایک دن اپنے ساتھیوں سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ دکھاؤں کہ وہ کیسی تھی؟جبکہ یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ پھر (انھوں نے نماز شروع کر دی) قیام کیا اور اچھا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور اچھا رکوع کیا، پھر (رکوع سے) اپنا سر اٹھایا اور کچھ دیر سیدھے کھڑے رہے پھر سجدہ کیا، پھر (سجدے سے) اپنا سر اٹھایا، وہ بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے، پھر کچھ انتظار کرکے (دوسرا) سجدہ کیا۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: انہوں نے ہمارے شیخ سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی نماز جیسی نماز پڑھائی اور یہ (عمرو بن سلمہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں امامت کرواتے تھے۔ ایوب کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایک کام کرتے ہوئے دیکھا تھا، تم وہ کام نہیں کرتے اور وہ یہ ہے کہ وہ پہلی اور تیسری رکعت میں جب دو سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے پھر اگلی رکعت کے لیے اٹھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 802، 818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20539)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20813»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے میں جلسۂ استراحت کا ذکر ہے، یعنی پہلی اور تیسری رکعت کے دو سجدوں کے بعد کچھ دیر کے لیے بیٹھا جائے اور پھر دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہوا جائے، اس وقت اکثر نمازی اس چیز کو چھوڑ چکے ہیں۔ نیز ان احادیث میں اعتدال اور اطمینان کی تعلیم دی جا رہی ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 802
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1517 in Urdu