🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابٌ فِي دُعَاءِ الِافْتِتَاحِ وَالتَّعَوُّذِ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1556
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَنَحْنُ فِي الصَّفِّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، قَالَ: فَرَفَعَ الْمُسْلِمُونَ رُءُوسَهُمْ وَاسْتَنْكَرُوا الرَّجُلَ وَقَالُوا: مَنِ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ هَٰذَا الْعَالِي الصَّوْتِ؟) ) فَقِيلَ: هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ( (وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ كَلَامَكَ يَصْعَدُ فِي السَّمَاءِ حَتَّى فُتِحَ بَابٌ فَدَخَلَ فِيهِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں صف میں کھڑے تھے کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا: اَللَّہُ اَکْبَرُکَبِیْرًاوَسُبْحَانَ اللَّہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلًا۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔)، مسلمانوں نے (اس کی طرف) اپنے سر اٹھائے اور اس کو برا سمجھا اور کہنے لگے: کون ہے جو اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند کر رہا ہے؟ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: یہ آواز بلند کرنے والا کون تھا؟ جواب دیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ یہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم میں نے تیرا کلام آسمان میں چڑھتے ہوئے دیکھا ہے حتیٰ کہ اس کے لیے ایک دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس میں داخل ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن سعيد الھمداني، أخرجه ابن عبد البر في الاستذكار: 8/ 133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)۔ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19347»
وضاحت: فوائد: … صحابہ نے نماز کے اندر ہی کہا کہ کون ہے جو اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند کر رہا ہے؟ یا تو اس جملے کا تعلق زبان حال سے ہے، جس کا پتہ ان کے سر اٹھانے سے چل رہا ہے، یا پھر یہ واقعہ نماز میں حرمت ِ کلام سے پہلے پیش آیا ہو گا، پہلی بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔)۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوںاور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن سعيد الھمداني


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1556 in Urdu