الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ جَامِعِ صِفَةِ الْقِرَاءَةِ مِنْ سِرٍّ وَجَهْرٍ وَمَدٍّ وَتَرْتِيلٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 1653
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَنَا أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي هَٰذَا وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کی آواز سنتی تھی، جبکہ میں اپنے اس چھپر کی چھت پر ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے پاس ہوتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 178، ابن ماجه: 1349، والترمذي في الشمائل: 311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26895، 26905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27433»
وضاحت: فوائد: … اس اور حدیث نمبر (۵۹۷) سے پتہ چلتا ہے کہ رات کے قیام میں بآواز بلند تلاوت کرنا بھی درست ہے، اس طریقے سے نمازی کا نماز کی طرف متوجہ ہوناآسان ہو جاتا ہے، جب کسی نمازی کے پاس کوئی آدمی بھی نماز پڑھ رہا ہو تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق آواز کو پست ہی رکھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 178
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1653 in Urdu