🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ تَكْبِيرَاتِ الِانْتِقَالِ
تکبیرات الانتقال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1675
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً ذَكَّرَنِي صَلَاةً صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْخَلِيفَتَيْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُوَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ مَنْ أَوَّلُ مَنْ تَرَكَهُ؟ قَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ كَبُرَ وَضَعُفَ صَوْتُهُ تَرَكَهُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں ایک نماز پڑھی، انہوں نے تو مجھے وہ نماز یاد دلا دی، جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دو خلیفوں کے ساتھ پڑھا تھا۔ مطرف کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں چلا گیا اور ان کے ساتھ نماز پڑھی، (میں نے دیکھا کہ) جب وہ سجدہ کرتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر میں نے پوچھا: اے ابو نجید! سب سے پہلے کس نے اس طریقے کو ترک کیا؟ انھوں نے کہا: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بوڑھے ہوئے اور ان کی آواز کمزور ہو گئی تو انھوں نے اس کو ترک کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1675]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 581، وأخرج البخاري: 826، 786 ومسلم: 393 بلفظ متقارب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19881، 19952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20122»
وضاحت: فوائد: … وَکُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوع (اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے)۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ درست الفاظ مِنَ السُّجُوْد کے ہیں، سیاق و سباق کا یہی تقاضا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے۔ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا عذر تھا، پھر بھی کئی اہل علم نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مخفی انداز میں کہتے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان تکبیرات کو ترک کرنا جائز سمجھتے ہوں، بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے ان تکبیرات کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یا زیاد نے ترک کیا تھا، ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں اور زیاد نے ان کی اقتدا میں ترک کر دی ہوں۔ بہرحال مسئلہ اپنی جگہ پر واضح ہے اور متواتراحادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان تکبیرات والا عمل ثابت ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 581


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1675 in Urdu