الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1699
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ: أَأَقْرَأُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ) )
عمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا میں رکوع و سجود میں تلاوت کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے رکوع و سجود میں قراءت کرنے سے منع کیا گیا ہے، جب تم رکوع کرو تو اللہ کی عظمت بیان کیا کرو اور جب سجدہ کرو تو دعا کرنے کی کوشش کرو، پس زیادہ لائق ہے کہ تمہارے لیے قبول کیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق، ولجھالة النعمان بن سعد۔ أخرجه ابويعلي: 297، والبزار: 697، وابن ابي شيبة: 1/ 249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1330، 1338) وفي الباب حديث ابن عباس الآتي ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1337»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1699 in Urdu