🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابٌ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَضْمَحِلُّ فِيهِ الْإِيمَانُ
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 170
عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهَى؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ) ) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا، (وَفِي رِوَايَةٍ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ) قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعُودَنَّ فِيهَا أَسَاوِدُ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ) )
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا بھی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، عرب و عجم کے جس گھر والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرے گا، ان پر اسلام کو داخل کر دے گا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر سایوں (یعنی پہاڑوں اور بادلوں) کی طرح فتنے رونما ہو جائیں گے۔“ اس نے کہا: ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو ایسے ہرگز نہیں ہو گا۔“ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم خبیث ترین بڑے سانپ کی طرح ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کے لیے جھپٹ پڑو گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 1290، وابن ابي شيبة: 15/ 13، والحاكم: 1/ 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16012»
وضاحت: فوائد: … اسلام کے عروج و زوال کی جو صورتیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں، اُن کو اس حدیث کا مصداق بنایا جا سکتا ہے، پہلی دو صدیوں میں ہی مسلمانوں کی آپس کی قتل و غارت کی حیران کن مثالیں موجود ہیں۔ وَاللّٰہَ نَسْأَلُ الْعَافِیَۃَ۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه الطيالسي: 1290


Al-Fath al-Rabbani Hadith 170 in Urdu