الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ أَذْكَارِ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 1713
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي يَوْمًا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ وَقَالَ ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) ) قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟) ) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا) )
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو آپ کے پیچھے ایک آدمی نے یہ کلمہ کہا: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًا فِیْہِ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: ابھی ابھی کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں نے چونتیس پینتیس فرشتے دیکھے، وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کو سب سے پہلے لکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19205»
وضاحت: فوائد: … اتنی بڑی فضیلت کے باوجود نمازی لوگوں کی اکثریت جلد بازی اور اپنی عادت کے سامنے عاجز ہو کر یہ کلمہ دوہرانے سے غافل ہے۔
حدیث میں ثلاثین (تیس) کے ساتھ بِضْعَۃٌ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک کے کسی بھی عدد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری زبان میں بضعۃ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے چند کا لفظ مناسب رہے گا یعنی تیس سے چند زائد فرشتے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث میں ثلاثین (تیس) کے ساتھ بِضْعَۃٌ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک کے کسی بھی عدد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری زبان میں بضعۃ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے چند کا لفظ مناسب رہے گا یعنی تیس سے چند زائد فرشتے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 799
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1713 in Urdu