الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ وَمَا يُقَالُ فِيهِ مِنَ الْأَذْكَارِ غَيْرِ مَا مُدَّ فِي الرُّكُوعِ
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
حدیث نمبر: 1747
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي التَّهَجُّدِ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ: ( (اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْنِي نُورًا، قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اجْعَلْ لِي نُورًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ تہجد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے نکلے اور نماز پڑھی اور نماز میں یا سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَعَنْیَمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَسَارِیْ نُوْرًا، وَأَمَامِیْ نُوْرًا، وَخَلْفِیْ نُوْرًا، وَفَوْقِیْ نُوْرًا، وَتَحْتِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا۔ شعبہ کہتے ہیں:یاآخری جملہ اس طرح ہے: اِجْعَلْ لِیْ نُوْرًا (اے اللہ! میرے دل میں نور کردے،میرے کان میں نور،میری نظر میں نور، میری دائیں طرف نور۔ میری بائیں نور، میرے آگے نور، میرے پیچھے نور، میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور بنا دے اور مجھے نور ہی بنا دے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1747]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2567»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد مین یہ ایک لمبی حدیث ہے۔ اس حدیث میں نور سے مراد کیا ہے؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ حقیقی نور ہی ہے، جو قیامت کے اندھیروں میں روشنی پیدا کرے گا اور (۲) اس سے مراد علم، ہدایت، حق کی وضاحت اور اس کی روشنی مراد ہے، تاکہ کہیں سے بھیضلالت نہ گھسنے پائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 763
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1747 in Urdu