🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. بَابُ الْجَلْسَةِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَمَا يُقَالُ فِيهَا
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1753
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ: ( (رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے،مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 850، وابن ماجه: 898، والترمذي: 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2895 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2895»
وضاحت: فوائد: … اسی حدیث کے ایک طریق میں اس دعا میں وَاجْبُرْنِیْ کے الفاظ کا اضافہ بھی مروی ہے، دیکھیں حدیث نمبر: ۶۳۹، اس طرح پوری دعا اس طرح بنتی ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)
فوائد: … جلسہ میں درج ذیل دعا تکرار کے ساتھ پڑنا بھی ثابت ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ (ابوداود: ۸۷۴، نسائی: ۱۰۷۰، ۱۱۴۶، ابن ماجہ: ۸۹۷) اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔ ایک دو دفعہ پڑھنا بھی ان شاء اللہ درست ہے۔ اس جلسہ میں بیٹھنے کی کم از کم مقدار تو یہ ہے کہ نمازی کے اعضاء اپنی جگہ پرٹھہر جائیں، زیادہ سے زیادہ مقدارکا انحصار نمازی کی مرضی پر ہے، سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱) صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنی
یہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، جیسا کہ نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کییہ صورتحال ہے کہ روایتی جلد بازی اور دین کے بارے میں عدم سنجیدگی کی وجہ سے وہ دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھ جانے سے بھی عاجز آ چکے ہیں، بلکہ بعض نمازیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ زمین سے آٹھ نو انچ کے بقدر سر اٹھانے کے بعد دوسرے سجدے کے لیے گر پڑتے ہیں، جبکہ ان کی تربیت کرنے والے لوگ بھی خاموش رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 850


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1753 in Urdu