الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْأَمَانَةِ وَالْإِيمَانِ
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 177
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ بِخَمْسٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَى رَأْسِ خَمْسٍ) وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ قَدْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا مَضَى أَمْ مِمَّا بَقِيَ؟ قَالَ: مِمَّا بَقِيَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی، اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر ان کے لیے ان کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔“ میں نے کہا اور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مستقل ستر سال۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 4254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3730»
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 4254
Al-Fath al-Rabbani Hadith 177 in Urdu