🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. 1 - بَابُ مَا وَرَدَ فِي أَلْفَاظِهِ
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان¤فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ¤فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1778
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ وَخَوَاتِمَهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَإِنَّا كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُهُ فِي صَلَاتِنَا حَتَّى عَلَّمَنَا) فَقَالَ: ( (إِذَا قَعَدْتُّمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ (فَذَكَرَ مِثْلَ مَا تَقَدَّمَ إِلَى قَوْلِهِ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) قَالَ ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) )
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیر و بھلائی کی ابتدائی، جامع اور اختتامی چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی، جبکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم نماز کے (تشہد) میں کیا کہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس چیز کی تعلیم دی اور فرمایا: جب تم دو رکعتوں کے بعد بیٹھو تو پڑھو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ … … عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ پھر تم سے ہر کوئی اپنی پسندیدہ دعا کا انتخاب کرے اور اس کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1778]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 831، ومسلم: 402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3622، 4160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4160»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درمیانے تشہد میں بھی خیر و بھلائی پر مشتمل کوئی دعا کی جا سکتی ہے، بعض مقتدی عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ تک پڑھ کر امام کی انتظار میں خاموش بیٹھے رہتے ہیں،یہ تعلیم کی کمی کے نتائج ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیر و بھلائی کی ابتدائی، جامع اور اختتامی چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے، سمندر کو کوزے میں بند کر دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا وصف تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو فصاحت و بلاغت کی شاہکار ہوتی تھی۔
ابتدائی اور اختتامی کلمات دئیے جانے کا مطلب ہے کہ آپ کو خیر و بھلائی کی ہر قسم کی باتوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 831


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1778 in Urdu