🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. 1 - بَابُ مَا وَرَدَ فِي أَلْفَاظِهِ
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان¤فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ¤فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1780
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: ( (التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) ) وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قرآن کی سورت کی طرح اس تشہدکی تعلیم دی، جبکہ میری ہتھیلی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو ہتھیلیوں میں تھی: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ جب آپ ہمارے درمیان موجود تھے (تو ہم اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ کہتے تھے)، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوگئے تو ہم اس طرح کہتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1780]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6265، ومسلم: 402، وانظر ما تقدم من حديث عبد الله بن مسعود، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3935»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سمیت بعض صحابہ کا یہ نظریہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد خطاب والا صیغہ استعمال کرتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ نہ کہا جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود نہیں ہیں، اس لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ کہنا زیادہ مناسب سمجھا۔ آج کل جو لوگ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ کے الفاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سننے اور حاضر ہونے کا مفہوم کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو سب سے پہلے صحابہ کرام کے عقیدے پر غور کرنا چاہیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سننے یا نہ سننے کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے تھے اور کس نظریہ کی بنا پر وہ خطاب والے الفاظ کہنے کو تیار نہ تھے؟ صحابہ کی ایک جماعت کے مطابق ہمارا نظریہیہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن الفاظ کی تعلیم دی، انہی الفاظ کو نقل کر کے تشہد پڑھا جائے، کیونکہ خطاب والے الفاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موجود ہونا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنانا یا سننا تو لازم نہیں آتا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6265


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1780 in Urdu