الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ مِقْدَارِ مَكْثِ الْإِمَامِ عَقَبَ الصَّلَاةِ وَجَوَازِ اِنْحَرَافِهِ عَنِ الْيَمِيْنِ أَوِ الشِّمَالِ
نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1839
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَ صَلَاتِهِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کے بقدر ٹھہرتے تھے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلَالِ وَالإِْکْرَامِ۔ (اے اللہ! تو السلام ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، اے جلال و اکرام والے تو بڑا ہی بابرکت ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24338، 25979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26506»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے دو مفہوم ممکن ہیں: (۱) بیٹھنے سے مراد قبلہ رخ ہو کر بیٹھنا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہی رہ کر یہ دعا پڑھتے، پھر دائیں، بائیںیا لوگوں کی طرف پھر جاتے اور دوسرے اذکار کرتے اور (۲) یہ معنی بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسااوقات نماز کے بعد اتنی دیر ہی بیٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہوں۔ بہرحال فرضی نماز کے بعد مسنون اذکار کا اہتمام انتہائی اہم عمل ہے، اگرچہ ان کے لیے اسی مقام پر بیٹھارہنا شرط نہیں ہے، بلکہ کھڑے ہو کر سنتوں یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہو جانا بھی درست ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 592
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1839 in Urdu