الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ مِقْدَارِ مَكْثِ الْإِمَامِ عَقَبَ الصَّلَاةِ وَجَوَازِ اِنْحَرَافِهِ عَنِ الْيَمِيْنِ أَوِ الشِّمَالِ
نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1842
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا وَحَافِيًا وَمُنْتَعِلًا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَيَسَارِهِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، ننگے پاؤں اور جوتا پہن کرتمام طریقوں سے نماز پڑھتے تھے، ایک روایت میں ہے:اور نماز کے بعد دائیں بائیں دونوں طرف پھرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الحميدي: 997، والبيھقي: 2/ 295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7378»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھنا اس صورت کو نفلی نماز پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نفلی نماز ادا کرنے پر بھی پورا ثواب ملتا تھا۔ اگر فرضی نماز کو اس حدیث کا مصداق بنائیں تو بیٹھنا عذر کی بنا پر ہو گا، جیسا کہ دوسری احادیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عذر کی بنا پر فرضی نماز بھی بیٹھ کر پڑھی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الحميدي: 997
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1842 in Urdu