الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْادْعِيَةِ الْوَارِدَةِ مِنْ ذَلِكَ
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 1860
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ نَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلَاتِنَا أَوْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاتِنَا ( (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثُّبَاتَ فِي الْأَمْرِ وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرٍ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرٍّ مَا تَعْلَمُ) )
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز میں یا نماز کے آخر میں پڑھنے کے لیے چند کلمات کی تعلیم دیتے تھے، وہ کلمات یہ ہیں: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُکَ الثُّبَاتَ فِی الْأَمْرِ وَأَسْأَلُکَ عَزِیْمَۃَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ۔ (اے اللہ بلاشبہ میں تجھ سے ہر معاملہ میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں،میں تجھ سے بھلائی کی پختگی کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمت کے شکر ادا کرنے کا اور اچھے انداز میں تیری عبادت کرنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سالم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے ان (گناہوں کی) کی بخشش کا سوال کرتا ہوں جن کو تو جانتا ہے، میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے اور میں تجھ سے ہر اس شرّ سے پناہ چاہتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1860]
تخریج الحدیث: «حسن بطرقه۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 271، وابن حبان: 935، والطبراني: 7157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17114، 17133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17263»
وضاحت: فوائد: … یہ دعا تو سلام سے پہلے کرنی چاہیے، جیسا کہ فی صلاتنا کے الفاظ سے واضح ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن بطرقه۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 271
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1860 in Urdu