الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ والتَّكْبِيرِ وَالْاسْتِغْفَارِ عَقْبَ الصَّلَوَاتِ
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
حدیث نمبر: 1868
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) )
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز سے سلام پھیرتے تو تین دفعہ بخشش طلب کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللَّہُمَّ أَنْتَ اَلسَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلاَلِ وَالإِْ کْرَامِ۔ (اے اللہ! تو سلام ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے تو بابرکت ہے اے شان و عزت والے۔) [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1868]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22723»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت میں إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنْصَرِفَ کی بجائے إِذَا اِنْصَرَفَ کے الفاظ ہیں اور اس مقام پر انصراف کے معانی سلام کے ہیں۔ علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ سلام کے بعد درج بالا اور دیگر مسنون اذکار مستحب ہیں، فرض نہیں ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ کا ذکر بڑی اہمیت کا حامل ہے، خصوصاً ہم جیسے لوگوں کے لیے جن کی نمازوں میں بڑا نقص موجود ہیَ۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 591
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1868 in Urdu