الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما يقطع الصلاة
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
حدیث نمبر: 1889
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ) ) قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: ابْنَ أَخِي! سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: ( (الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ) )
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نمازی کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی (جتنی بلند) کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ عبد اللہ بن صامت نے کہا: سرخ کتے میں سے سیاہ کتے (کو مخصوص کرنے) کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: بھتیجے! جس طرح تو نے مجھ سے سوال کیا، اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1889]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21649»
وضاحت: فوائد: … باب نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم سترہ کی مقدار اور موضوع پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 510
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1889 in Urdu