🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. 4- بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّحِكِ وَالِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ وَتَفْقِيعِ الْأَصَابِعِ وَتَشْبِيكِهَا
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1913
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَتَطَهَّرُ رَجُلٌ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ إِلَّا كَانَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، وَلَا يُخَالِفْ أَحَدُكُمْ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ) )
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی گھر میں وضو کر کے صرف نماز کے لیے (مسجد کی طرف) نکلتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، جب تک نماز پوری نہیں کر لیتا، اور تم میں سے کوئی نماز میں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان مخالفت نہ کرے (یعنی تشبیک نہ ڈالے)۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1913]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وانظر الحديث المتقدم برقم: 822، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18292»
وضاحت: فوائد: … تشبیک: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں مضبوطی کے ساتھ داخل کرنا۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تشبیک اس وقت منع ہے، جب آدمی نماز کے قصد سے مسجد کی طرف جا رہا ہو، یا نماز کا انتظار کر رہا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو۔ ان صورتوں کے علاوہ کئی مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تشبیک کرنا ثابت ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہما والی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشبیک کی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے، کہ اس کا بعض اس کے بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات سمجھانے کے لیے تشبیک کی۔ (صحیح بخاری)

الحكم على الحديث:
حديث حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1913 in Urdu