الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْبَصَرِ وَالْإِشَارَةِ بِالْيَدِ وَاتِّخَاذِ مَكَانٍ مَخْصُوصٍ لِلصَّلَاةِ فِيهِ
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے¤اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1920
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ ثَلَاثٍ، عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَعَنْ اِفْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ مَقَامَهُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا: کوے کے ٹھونگے سے،درندے کی طرح بازو بچھانے سے اور اس سے کہ آدمی نماز کے لیےیوں جگہ مقرر کر لے، جیسے اونٹ کرتا ہے۔ نماز میں اپنے کھڑے ہونے کی جگہ مقرر کرلے جیسے اونٹ مقرر کرتاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1920]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15617»
وضاحت: فوائد: … دوسرے شواہد اور روایات سے یہ تینوں امور ثابت ہیں۔ کوے کی طرح ٹھونگ لگانا اس سے مراد سجدے کا اختصار اور تخفیف ہے۔ درندے کی طرح بازو بچھانا اس سے مراد سجدے میں بازوؤں کو زمین پر بچھا دینا ہے، جیسا کہ کتے اور بھیڑیئے وغیرہ کرتے ہیں۔ اونٹ کی طرح جگہ مقرر کرنا اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ خاص کر لے، وہ صرف اسی میں نماز پڑھے اور اس جگہ کا اتنا اہتمام کرے کہ وہاں بیٹھ جانے والے کو اٹھا دے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1920 in Urdu