الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ بِالِاسْتِمَالِ وَالسَّدْلِ وَالْإِسْبَالِ وَفِي تَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ وَفِي مَلَاحِفِ النِّسَاءِ
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1928
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّدْلِ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں سدل سے منع کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1928]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف عسل بن سفيان۔ أخرجه ابوداود: 643، والترمذي: 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8477»
وضاحت: فوائد: … سدل کیا ہے؟ چار تعریفات قلم بند کی جاتی ہیں:
(۱) چادر یا رومال وغیرہ کا وسط سر پر رکھ کر دونوں کناروں کو دائیں بائیں چھوڑ دینا اور ان کو کندھوں پر نہ ڈالنا، اکثر اہل علم کییہی رائے ہے۔
(۲) آدمی کا یوں کپڑا لٹکانا کہ اس کے دونوں کنارے سامنے لٹک رہے ہوں اور ان کو لپیٹا نہ گیا ہو، لپیٹ لینے کی صورت میں سدل نہیں ہو گا۔
(۳) کپڑے کو اتنا لٹکانا کہ وہ زمین پر لگنے لگ جائے اور یہ تکبر کی علامت ہے۔
(۴) جسم کی چاروں طرف سے کپڑا لپیٹ لینا اور ہاتھوں کو اس کے اندر ہی رہنے دینا اور رکوع و سجود کے وقت اسی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱۹۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف عسل بن سفیان۔ أخرجہ ابوداود: ۶۴۳، والترمذی: ۳۷۸ (انظر: ۷۹۳۴)
کیفیت میں رہنا، جیساکہیہودی لوگ کرتے تھے۔ اگر ان سب صورتوں کو سدل سمجھ کر نماز میں ترک کر دیا جائے تو یہ عمل زیادہ محتاط اور قوی ہو گا۔ کئی لوگوں کو دیکھا گیاہے کہ وہ سر پر رومال اوڑھ کر نماز پڑھتے ہیں، جبکہ اس کے دونوں کنارے اس کے سامنے لٹک رہے ہوتے ہیں،یہ لوگ دوسری تعریف کے مطابق سدل کرتے ہیں۔
(۱) چادر یا رومال وغیرہ کا وسط سر پر رکھ کر دونوں کناروں کو دائیں بائیں چھوڑ دینا اور ان کو کندھوں پر نہ ڈالنا، اکثر اہل علم کییہی رائے ہے۔
(۲) آدمی کا یوں کپڑا لٹکانا کہ اس کے دونوں کنارے سامنے لٹک رہے ہوں اور ان کو لپیٹا نہ گیا ہو، لپیٹ لینے کی صورت میں سدل نہیں ہو گا۔
(۳) کپڑے کو اتنا لٹکانا کہ وہ زمین پر لگنے لگ جائے اور یہ تکبر کی علامت ہے۔
(۴) جسم کی چاروں طرف سے کپڑا لپیٹ لینا اور ہاتھوں کو اس کے اندر ہی رہنے دینا اور رکوع و سجود کے وقت اسی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱۹۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف عسل بن سفیان۔ أخرجہ ابوداود: ۶۴۳، والترمذی: ۳۷۸ (انظر: ۷۹۳۴)
کیفیت میں رہنا، جیساکہیہودی لوگ کرتے تھے۔ اگر ان سب صورتوں کو سدل سمجھ کر نماز میں ترک کر دیا جائے تو یہ عمل زیادہ محتاط اور قوی ہو گا۔ کئی لوگوں کو دیکھا گیاہے کہ وہ سر پر رومال اوڑھ کر نماز پڑھتے ہیں، جبکہ اس کے دونوں کنارے اس کے سامنے لٹک رہے ہوتے ہیں،یہ لوگ دوسری تعریف کے مطابق سدل کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1928 in Urdu