الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ بِالِاسْتِمَالِ وَالسَّدْلِ وَالْإِسْبَالِ وَفِي تَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ وَفِي مَلَاحِفِ النِّسَاءِ
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1932
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا هَمَّامٌ قَالَ ثَنَا قَتَادَةُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الصَّلَاةَ فِي مَلَاحِفِ النِّسَاءِ قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنِي إِمَّا قَالَ كَثِيرٌ وَإِمَّا قَالَ عَبْدُ رَبِّهِ شَكَّ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ لِعَائِشَةَ عَلَيْهَا بَعْضُهُ وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ
ابن سیرین کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنا ناپسند فرمایا۔ ابو عیاض کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ آپ پر عائشہ کی ایک اونی چادر تھی، کچھ حصہ عائشہ پر اور کچھ آپ پر تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1932]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26366»
وضاحت: فوائد: … آخری حدیث میں بظاہر تعارض نظر آ رہا ہے کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنا ناپسند کرتے تھے اور دوسری طرف نماز کی حالت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر کا کچھ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تھا۔ پہلا سوال یہ ہے کہ عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنا مکروہ اور ناپسند کیوں ہے؟ یہی وجہ مناسب نظر آتی ہے کہ عورتوں کی اس قسم کی چادروں میں نجاست کا احتمال ہوتا ہے۔ احتمال کا سبب حیض، نفاس، عورتوں کا غیر محتاط ہونا اور بچوں کا عورتوں کے ساتھ رہنا ہے۔لیکن جب بعض قرائن کی وجہ سے یہیقین ہو جائے کہ فلاں عورت کی چادر پاک ہے تو اس میں نماز پڑھ لینے میںکوئی حرج نہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ہے، اس طرح تعارض ختم ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1932 in Urdu