🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ نَهْيِ الْمُصَلِّي عَنِ التَّنَخُّمِ جِهَةَ الْإِمَامِ أَوْ الْيَمِينِ وَعَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1936
عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا أُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ وَشَيْخٌ إِلَى جَانِبِي فَأَطَلْتُ الصَّلَاةَ فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَصْرِي، فَضَرَبَ الشَّيْخُ صَدْرِي بِيَدِهِ ضَرْبَةً لَا يُؤْلُو، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: مَا رَابَهُ مِنِّي، فَأَسْرَعْتُ الاِنْصِرَافَ، فَإِذَا غُلَامٌ خَلْفَهُ قَاعِدٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَٰذَا الشَّيْخُ؟ فَقَالَ: هَٰذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى انْصَرَفَ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي؟ قَالَ: أَنْتَ هُوَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ذَٰكَ الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں: میں بیت اللہ کی طرف نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ میری ایک جانب ایک بزرگ آدمی تھا، میں نے نماز کو لمبا کیا، اس لیے اپنا ہاتھ کوکھ پر رکھ لیا، لیکن اس شیخ نے اپنے ہاتھ سے میرے سینے پر بڑی لاپرواہی سے ضرب لگائی، میں نے اپنے دل میں کہا: اس کو میرے بارے میں کیا شک ہوا ہے، بہرحال میں جلدی جلدی نماز سے فارغ ہوا اور دیکھا کہ ایک لڑکا اُس کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے اسے پوچھا: یہ بزرگ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں، پس میں بیٹھا رہا، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ کو میرے بارے میں کیا گمان ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: تم وہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: نماز میں یہ تو سولی پر لٹکنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1936]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 903، والنسائي: 2/ 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4849، 5836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4849»
وضاحت: فوائد: … سولی پر لٹکنے سے مراد کوکھ پر ہاتھ رکھنے ہیں، کیونکہ جس شخص کو سولی پر لٹکایا جاتا ہے، اس کے ہاتھ بھی لکڑی پر کھینچ دیئے جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 903


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1936 in Urdu