الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ
نماز میں سبحان اللہ کہنے، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
حدیث نمبر: 1943
عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَبَّحَ لِي، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ يُسَبِّحُ وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَةِ أَنْ تُصَفِّقَ
یزید بن کیسان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سالم بن ابو جعد سے اجازت طلب کی جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے مجھے (جواباً)سبحان اللہ کہا، پھر جب سلام پھیرا تو کہا: جب مردنماز پڑھ رہا ہو تو اس کا اجازت دینایہ ہے کہ وہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے اور عورت تالی بجائی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث: «ھذا اثر صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7880»
الحكم على الحديث:
ھذا اثر صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1943 in Urdu