الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1956
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَسْتَشْرِفُ لِشَيْءٍ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، يَنْظُرُ إِلَيْهِ
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ کسی چیز کے لئے نظر اٹھاتے، جبکہ وہ نماز میں ہوتے اور اس کی طرف دیکھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1956]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4083»
وضاحت: فوائد: … یقینی طور پر ان احادیث کو ضرورت پر محمول کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی بڑی مصلحت کی بنا پر ادھر ادھر دیکھنے کو مناسب سمجھا، ہم اس موضوع پر باب نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان میں گفتگو کر آئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1956 in Urdu