الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. فَصْلٌ آخَرُ فِي الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَ فَضْلِهِ
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 196
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللَّهُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن پر تعجب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کے لیے خیر ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 4019، وابن حبان: 728، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20549»
وضاحت: فوائد: … جائز اسباب کے استعمال کے بعد ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے اور ہر آزمائش پر صبر کرنا چاہیے اور ماضی پر پچھتاوے کی بجائے مستقبل کے لیے نتیجہ خیز لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے، مثلا اگر کسی بد احتیاطی یا معصیت کی وجہ سے کوئی نقصان ہو جاتا ہے یا بے عزتی ہو جاتی ہے تو آئندہ کے لیے احتیاط کرے اور نافرمانیوں سے بچے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابو يعلي: 4019
Al-Fath al-Rabbani Hadith 196 in Urdu