الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْمَرْأَةِ أَمَامَ الْمُصَلِّي فِي الظَّلَامِ
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1971
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قُلْتُ: أَبَيْنَهُمَا جَدْرُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: لَا، فِي الْبَيْتِ إِلَى جَدْرِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں نماز پڑھتے کہ وہ آپ کے اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ عطا کہتے ہیں: میں نے عروہ سے پوچھا: کیا ان دونوں کے درمیان مسجد کی دیوار ہوتی؟ انہوں نے کہا: نہیں، گھر میں اس کی دیوار کی طرف۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه عبد الرزاق: 1073، واسحاق بن راھويه في مسنده: 821، وانظر الحديث رقم: 875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26166»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے سامنے سونے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ بعض ضعیف روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نمازی کے سامنے سونا منع ہے، اگر وہ ثبوت کے درجہ تک پہنچ جائیں تو ان کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا کہ جب سونے والے آدمی کی وجہ سے نمازی کا خشوع وخضوع متأثر ہو رہا ہو۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه عبد الرزاق: 1073
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1971 in Urdu