الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَجْدَةِ الشُّكْرِ
سجدۂ شکر کا بیان
حدیث نمبر: 2031
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرِهِمُ امْرَأَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْآنَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءُ، هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءُ) ) ثَلَاثًا
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک بشارت دینے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوشخبری دینے آیا تھا کہ آپ کا لشکر دشمن پر غالب آ گیا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر سجدہ کی حالت میں گر گئے، پھر بشارت دینے والے سے سوال و جواب کرنے لگے، اس نے مختلف باتیں بتائیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کے حکومتی معاملات کی والی ایک عورت بن گئی ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب وہ مرد ہلاک ہوگئے، جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگ گئے، وہ مرد ہلاک ہوگئے جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ ارشاد دہرایا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2031]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بكار بن عبد العزيز، وأبوه عبد العزيز بن ابي بكرة روي عنه جمع، وذكره ابن حبان والعجلي في الثقات، ولسجود الشكر شواھد۔ أخرجه البزار: 3692، والحاكم: 4/ 291، وأخرج قصة سجود الشكر ابوداود: 2774، والترمذي: 178، وابن ماجه: 1394، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20729»
وضاحت: فوائد: … یہ سجدہ کسی نعمت کے حصول، مصیبت و تکلیف سے چھٹکارے اور خوشی و مسرت کے موقع پر کیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بكار بن عبد العزيز
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2031 in Urdu