الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب ما جاء فى الركعتين بعد العصر
عصر کے بعد دو رکعتوں کا بیان
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ زَعَمَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْأَلُهَا هَلْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: أَمَّا عِنْدِي فَلَا، وَلَٰكِنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ فَأَرْسِلْ إِلَيْهَا فَاسْأَلْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، دَخَلَ عَلَيَّ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أُنْزِلَ عَلَيْكَ فِي هَٰاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ؟ قَالَ: ( (لَا وَلَٰكِنْ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَشُغِلْتُ فَاسْتَدْرَكْتُهَا بَعْدَ الْعَصْرِ) )
عبید اللہ بن عبد اللہ نے کہا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد کوئی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: میرے پاس تو ایسے نہیں ہوا، البتہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھی تھیں، لہٰذا تم ان کی طرف پیغام بھیج کر ان سے پوچھ لو، پس انھوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد میرے پاس آئے اور یہ دو رکعتیں پڑھیں، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ان دو رکعتوں کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بات یہ ہے کہ میں ظہر کی نماز پڑھ کر مصروف ہو گیاتھا، اس لیے اب عصر کے بعد ان کو ادا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2070]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 282، وابن ابي شيبة: 2/ 353۔ وأخرجه مطوّلا البخاري: 1233، 4370، ومسلم: 834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26515، 26614، 26633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27168»
وضاحت: فوائد: … پچھلے باب کی احادیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بیان کرچکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تسلسل کے ساتھ عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے، لیکن اس حدیث میں انھوں نے اس نماز کی نفی کر دی ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کی نفی سے مراد سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیان کردہ واقعہ کی نفی ہے، نہ کہ صرف دو رکعتوں کی۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 282
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2070 in Urdu