الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب ما جاء فى الركعتين بعد العصر
عصر کے بعد دو رکعتوں کا بیان
حدیث نمبر: 2072
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا قَالَتْ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، جَاءَهُ نَاسٌ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَشَغَلُوهُ فِي شَيْءٍ فَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد کبھی نماز پڑھی ہو، البتہ ایک مرتبہ ایسے ہوا تھا کہ لوگ ظہر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی کام میں مصروف کردیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ سکے، یہاں تک کہ عصر کی نماز ادا کی، پھر جب آپ میرے گھر تشریف لائے تو وہ دو رکعتیں پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2072]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 281، وعبد الرزاق: 3970، والطبراني في الكبير: 23/ 534، وھذا حديث قد اختلف فيه علي أبي سلمة، وانظر: 956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27181»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ظہر کی بعد والی سنتیں رہ جائیں تو ان کو عصر کی نماز کے بعد ادا کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 281
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2072 in Urdu