🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب ما جاء فى راتبة المغرب
مغرب کی سننِ رواتب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2079
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ( (ارْكَعُوا هَٰتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ) ) ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لِأَبِي: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ تُجْزِهِ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيهُمَا فِي بَيْتِهِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (هَٰذِهِ مِنْ صَلَاةِ الْبُيُوتِ) ) ، قَالَ: مَنْ هَٰذَا؟ قُلْتُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ أَوْ مَا أَحْسَنَ مَا انْتَزَعَ (وَفِي رِوَايَةٍ) مَا أَحْسَنَ مَا نَقَلَ
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عبدالاشہل کے پاس آئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مغرب کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: یہ دو رکعتیں گھروں میں پڑھا کرو۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے اپنے باپ سے کہا کہ ایک آدمی کا یہ خیال ہے کہ جس نے مغرب کے بعد دو رکعتیں مسجد میں پڑھیں، تو یہ اسے کفایت نہیں کریں گی، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو اپنے گھر میں ادا کرے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گھروں کی نماز میں سے ہیں۔ میرے باپ نے پوچھا: یہ کون آدمی ہے؟ میں نے کہا: محمد بن عبد الرحمن ہے، انہوں نے کہا: کتنی اچھی بات اس نے کہی ہے یا کتنی اچھی روایت اس نے بیان کی ہے یا کتنی اچھی روایت اس نے نقل کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2079]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23624، 23628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24028»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ کہنا کہ اگر مغرب کی سنتیں مسجد میں ادا کی جائیں تو وہ کفایت ہی نہیں کرتیں،یہ بات انتہائی قابل نظر ہے۔ ہاں یہ بات واضح ہے کہ نفلی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1165


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2079 in Urdu