🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. بَابُ تَعْجِيلِهِمَا أَوَّلَ الْوَقْتِ وَالضَّجْعَةِ بَعْدَهَا
ان دو سنتوں کو اول وقت میں جلدی جلدی ادا کرنے اور ان کے بعد لیٹنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2110
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة۔ أخرجه الطبراني: 2/ 218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6619»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی دوسنتوں کے بعد دائیں پہلو پر لیٹنا چاہیے، ان کی مزید کوئی تأویل نہیں کی جا سکتی، لیکن نمازیوں کی اکثریتیا تمام نمازی اس سنت پر عمل کرنے سے غافل ہیں۔ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی نمازی نمازِ فجر سے پہلے دو سنتیں ادا نہ کر سکے تو اسے یہ اختیار ہے کہ وہ فرض نماز کے بعد یہ سنتیں پڑھ لے یا طلوع آفتاب کے بعد، دلائل درج ذیل ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَمْ یُصَلِّ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، فَلْیُصَلِّھِمَا بَعْدَ مَا تَطَلُعَ الشَّمْسُ۔)) جو فجر کی دو سنتیں نہ پڑھ سکا، وہ طلوعِ آفتاب کے بعد ادا کر لے۔ (ترمذی:۴۲۳، صحیحہ: ۲۳۶۱) سیدنا قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی، (میں نے فرض نماز سے فارغ ہو کر پہلے والی دو سنتیں ادا کرنا شروع کر دیں) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ((مَھْلًا یَا قَیْسُ! أَصَلَاتَانِ مَعًا؟)) یعنی قیس! ٹھہر جاؤ، کیا دو (فرض) نمازیں ایک وقت میں؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فجر کی دوسنتیں (نماز سے پہلے) ادا نہ کر سکا(لہٰذا اب پڑھی ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَلَا اَذِنْ)) … تو پھر کوئی حرج نہیں۔ (ابوداود: ۱۲۶۷، ترمذی: ۴۲۲) صحابی رسول کہتے ہیں کہ جب میں مسجد میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر پڑھا رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو میں فجر کی دو سنتیں ادا کرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے کہا: ((مَا ھَاتَانِ الرَّکْعَتَانِ؟)) یعنی یہ دو رکعتیں کونسی نماز ہے؟ میں نے کہا: یہ دو سنتیں ہیں جو میں فجر سے پہلے نہ پڑھ سکا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور کچھ نہ کہا۔ (دارقطنی: ۱۴۲۴، بیہقی: ۲/۴۸۳، ابن حبان: ۶۲۴، مستدرک حاکم: ۱/۲۷۴) معلوم ہوا کہ جب مؤذن نمازِ فجر کیلیے اقامت کہنا شروع کردے، اور کسی نمازی کی سنتیں رہتی ہوں تو وہ سب سے پہلے فرضی نماز باجماعت ادا کرے گا اور نماز کے بعد یا طلوع آفتاب کے بعد دو سنتیں ادا کر لے گا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2110 in Urdu