الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَأَفْضَلِ أَوْقَاتِهَا
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2117
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَجْوَبُهُ دَعْوَةً) ) ، قُلْتُ: أَوْجَبُهُ؟ قَالَ: ( (لَا، بَلْ أَجْوَبُهُ) ) يَعْنِي بِذَلِكَ الإِجَابَةَ
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری (ایک تہائی) حصے میں دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیا اس حصے میں دعا کرنا واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، (میں کہہ رہا ہوں کہ) دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قبولیت تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله الغساني۔ أخرجه ابونعيم في الحلية: 5/ 154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19676»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن پہلے دو جملے رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کا آخری حصہ دعا کی زیادہ قبولیت والا ہے دوسرے طرق اور شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔
الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله الغساني۔ أخرجه ابونعيم في الحلية : 5/ 154
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2117 in Urdu