الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَأَفْضَلِ أَوْقَاتِهَا
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2120
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا قَالَتْ: عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ، فَإِنْ مَرِضَ قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٍ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَقُولُ بِحَسْبِي أَنْ أُقِيمَ مَا كُتِبَ لِي، وَأَنَّى لَهُ ذَلِكَ
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رات کے قیام کا اہتمام کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ترک نہیں کرتے تھے، اگر آپ بیمار ہوتے تو بیٹھ کر یہ نماز پڑھ لیتے۔ میں جانتی ہوں کہ تم تو یہ کہہ دیتے ہو کہ ہم اتنی نماز پڑھیں گے، جو ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے، تو پھر اسے مقام کیسے ملے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25458»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہنا چاہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے قیام کا اس قدر اہتمام کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے تھے، تو ہم جیسے گنہگاروں کو تو بالاولییہ اہتمام کرنا چاہیے، اگرچہ ہم عبادت کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2120 in Urdu