🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَأَفْضَلِ أَوْقَاتِهَا
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2127
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أَنْثَى إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِينَ يَرْقُدُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مرد و زن جب سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی ایک رسی ہوتی ہے اور اس سے اس کے سر پر تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، جب وہ بیدار ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اٹھ کر وضو کرتا ہے دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے توساری گرہیں کھل جاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن خزيمة: 1133، وابن حبان: 2554، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14440»
وضاحت: فوائد: … رات کی نماز مومن کی عظیم صفت اور پارسا و متقی لوگوں کا شیوہ ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنَّاتٍ وَّ عُیُوْنٍ … کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ اللَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَ۔ وَبِالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔} (سورۂ ذاریات: ۱۵تا۱۸) … بیشک پر ہیزگار لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ … (ان کی صفات یہ ہیں کہ) وہ رات کو کم سوتے ہیں اور سحریوں کے وقت بخشش طلب کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((شَرَفُ الْمُؤْمِنِ صَلَاتُہٗبِاللَّیْلِ، وَعِزُّہُ اسْتِغْنَاؤُہُ عَمَّا فِی أَیْدِی النَّاسِ۔)) مومن کا اعزاز رات کی نمازِ (تہجد) میں ہے اور اس کی عزت و آبرو اس چیز سے بے نیاز ہو جانے میں ہے جو (دنیا کی صورت میں) لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ (صحیحہ:۱۹۰۳، عقیلي في الضعفائ: صـ ۱۲۷، ابن عساکر فی تاریخ دمشق: ۴/ ۹۹/ ۱، ۸/ ۳۷/ ۱) رات کو نماز ادا کرنا اور لالچی و حریص نہ ہونا، دو ایسی صفاتِ جمیلہ ہیں کہ انسان کے عزت و احترام کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ اس کے دل و دماغ کو تسکین اور اس کو زندگی کا لطف نصیب ہوتا ہے اور چہرے پر نورانی کرنوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ جو انسان ان دو صفات سے محروم ہے اور پھر بھی اپنے آپ کو مطمئن اور معزز سمجھتا ہے تو یہ محض اس کی خام خیالی ہے اور یہ بات بجا طور پر درست ہو گی کہ اسے سکون اور عدم سکون کا تجربہ ہی نہیں ہے، اگر کسی کو میری گزارشات سے اتفاق نہیں تو وہ چند دن تجربہ کر کے دیکھ لے۔ کئی آیات و احادیث میں رات کے قیام کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے، لیکنیہ ایک المیہ ہے کہ چند افراد کے علاوہ امت ِ مسلمہ اس عبادت سے غافل ہے، اللہ تعالیٰ توفیقِ خاص سے نوازے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن خزيمة: 1133


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2127 in Urdu