🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2166
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَكَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا
حمید کہتے ہیں: سیدناانس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا: ہم نہیں چاہتے تھے کہ رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں، مگر ہم آپ کو ایسے ہی دیکھ لیتے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہم آپ کو سویا ہوا دیکھیں مگر ہم آپ کو ایسےبھی دیکھ لیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مہینہ میں اتنے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ کا کوئی روزہ ترک نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے ترک کرنا شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب اس ماہ کا کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12035»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری رات سوئے رہتے اور نہ ساری رات قیام کرتے، بلکہ وقفے وقفے سے دونوں کام کرتے رہتے، اس طرح کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیام کرتے دیکھ لیتا اور کوئی سوتے ہوئے دیکھ لیتا۔
مطلبیہ ہے کہ آپ ایک عادت پر استمرار نہیں کرتے تھے۔ کبھی رات کے ایک حصہ میں قیام کر رہے ہیں، تو اس حصہ میں قیام کرنے کی عادت بدل دیتے۔ دیکھنے والا سمجھتا کہ اس وقت میں آپ کی عادت قیام کرنے کی ہے تو قیام کر رہے ہوں گے لیکن آپ نے اس وقت قیام کی بجائے آرام کرنا شروع کر دیا ہوتا۔ اسی طرح آرام کے حوالے سے ایک
وقت کی عادت بدل دیتے۔ گویا کبھی پہلی رات آرام کرنے کی عادت بدل کر قیام کرنا شروع کر دیا کبھی درمیانی رات قیام کرنے کی عادت بدل کر آرام کرنا شروع کر دیا۔ وَ عَلٰی ہٰذَا الْقِیَاسِ۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1141


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2166 in Urdu