الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابٌ فِي الْعَمَلِ مَعَ الْقَدَرِ
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 217
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ، أَفِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ مُبْتَدَأٍ أَوْ مُبْتَدَعٍ؟ قَالَ: ( (فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَاعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ) )
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اس (تقدیر) کے مطابق ہیں، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، یا اب ان کی ابتداء ہو رہی ہے اور ان کو ایجاد کیا جا رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس (تقدیر) کے مطابق ہے، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، اے ابن خطاب! عمل کر، پس ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، پس جو شخص خوش بختوں میں سے ہو، وہ خوش بختی کے لیے عمل کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہو، وہ بدبختی کے لیے عمل کرتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 196 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 196»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 3111
Al-Fath al-Rabbani Hadith 217 in Urdu