الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوِتْرِ وَتَأْكِيدِهِ وَحُكْمِهِ
وتر کی فضیلت، تاکید اور حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2173
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْجُمَحِيِّ أَخْبَرَهُ وَكَانَ بِالشَّامِ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُخْدِجِيَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بِالشَّامِ يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَذَكَرَ الْمُخْدِجِيُّ أَنَّهُ رَاحَ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ مَنْ أَتَى بِهِنَّ، لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ) )
ابن محیریز جمحی شام میں تھے، انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی پایا تھا، انھوں نے بتایا کہ بنوکنانہ کے مخدجی آدمی نے بتلایا کہ شام میں سکونت پذیر ایک انصاری آدمی ابو محمد نے کہا کہ وتر واجب ہے، یہ سن کر مخدجی، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا کہ ابو محمدانصاری کہہ رہا ہے کہ وتر واجب ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ بولا ہے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جس نے ان کو ادا کیا اور کسی کے حق کو کمزور سمجھتے ہوئے ان میں سے کسی نماز کو ضائع نہیں کیا، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے یہ عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، لیکن جس نے ان کو ادا نہ کیا تو اس کے لئے اللہ کے ہاں کوئی عہد نہیں ہے، اگر اس نے چاہا تو اسے عذاب دے گا اور چاہا تو بخش دے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1420، والنسائي: 1/ 230، وابن ماجه: 1401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23069»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1420
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2173 in Urdu