الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوِتْرِ وَتَأْكِيدِهِ وَحُكْمِهِ
وتر کی فضیلت، تاکید اور حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2175
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَرَأَيْتَ الْوِتْرَ أَسُنَّةٌ هُوَ؟ قَالَ: مَا سُنَّةٌ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ، قَالَ: لَا، أَسُنَّةٌ هِيَ؟ قَالَ: مَهْ، أَتَعْقِلُ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ
۔ (دوسری سند)ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: وتر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ سنت ہے؟ انہوں نے کہا: سنت کیا ہوتی ہے؟ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھی یہ نماز پڑھی ہے۔ اس نے کہا: نہیں، نہیں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیاوہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا: ٹھہر جا ذرا، کیا تیری عقل کام کرتی ہے؟ میں کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھی ہے، (لہٰذا ہمیں پڑھنی چاہیے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2175]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4834»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4834
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2175 in Urdu